علی محمد مسوری بگٹی


 سردار علی محمد مسوری بگٹی
مسوری بگٹی  شاخ کے سربراہ
   
 کراچی کے صحافیوں کا ڈیرہ بگٹی کا 2007میں  دورہ
ہم نے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے سے انکار کیا اور سرکاری تنصیبات کو تباہ کرنے سے انکار کیا تو ہمیں قید کردیا گیا ہم پر جرمانہ عائد کیا گی۔
  ہمیں بے قصو ر سزائیں دی گئی ہمارا کوئی جرم نہیں تھا ،مگر اس کے باؤجود ہم پر جرمانہ عائد کیا گیا ہمیں قید کیا گیا ، ہمارے لوگوں کو جان سے مارا گیا ہمیں غیر قانونی طور پر جلا وطن کیا گیا ۔
یہ باتیں بگٹی قبیلے کے چیف اور مسوری شاخ کے سربراہ علی محمد مسوری بگٹی اس وقت کہہ رہے تھے جب ان کی ملاقات کراچی کے صحافیوں سے کروائی گئی بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے مطالعاتی دورہ میں کراچی کے تمام ہی اخبارات اور چینلوں کے نمائندے اس وقت موجود تھے میڈیا کے سامنے موجود بگٹی قبیلے کے چیف اور مسوری شاخ کے سربراہ علی محمدمسوری بگٹی جن کا مقام بگٹی قبیلے میں نواب اکبر بگٹی کے بعد سب سے اہم ترین ہے یعنی چیف آف بگٹی قبائل ، ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیکڑ میں اپنے ساتھ موجود اپنے ان ساتھیو ں کے ہمراہ جنہیں نواب اکبر بگٹی نے نکال دیا تھا اور جو اس وقت واپس آگئے تھے اپنی تکالیف اور مسائل کے بارے میں ٹوٹی پھوٹی پھوٹی اردو میں صحافیوں کو آگاہ کررہے تھے ا س وقت ان کے ساتھ مسوری قبیلے کے وہ افر اد بھی موجود تھے جن کو ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیکڑ کو چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا تھاگٹی قبیلے کے چیف اور مسوری شاخ کے سربراہ علی محمدمسوری بگٹی نے اپنے خیالات کا اظہار اس طرح سے کیا کہ ہم نے کسی بھی طرح کا کوئی جرم نہیں کیا تھا مگر ہمارے ساتھ بے انتہا ظلم کیا گیا ہمیں جلا وطن کیا گیا نہ ہی ہم کبھی کسی جرم میں ملوث ہوئے ہیں اور نہ ہی غیر قانونی کام انجام دئے ہیں مگر اس کے باؤجود ہمارے خلاف نواب اکبر بگٹی نے کارروائی کی انہوں نے بتایا کہ ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں ہمارے علاقے بیکڑ جو مسوری بگٹیوں کا مرکز ہے میں ڈیرہ بگٹی کے اہم ترین تعلیمی مراکز ہیں جن میں لڑکے اور لڑکیوں کے مڈل اور ہائی اسکول موجود ان اسکولوں میں بہترین اور معیاری تعلیم فراہم کی جاتی ہے صحافیوں اوربگٹی قبیلے کے چیف اور مسوری شاخ کے سربراہ علی محمدمسوری بگٹی کے درمیان رابطہ اور ترجمانی کے فرائض بگٹی قبیلے کے چیف اور مسوری شاخ کے سربراہ علی محمدمسوری بگٹی کے بیٹے طارق مسوری بگٹی انجام دے رہے تھے ایک سوال کے جواب میں گٹی قبیلے کے چیف اور مسوری شاخ کے سربراہ علی محمدمسوری بگٹی نے کہا کہ اب سرداری نظام اور نوابی نطام کا خاتمہ ہوجا نا چاہئے کیونکہ اب بلوچ عوام کے اندر شعور بیدار ہو چکا ہے اور سرداری نظام اور نوابی نظام نے بلوچ عوام کو کچھ بھی نہیں دیا اس سوال کے جواب میں کہ آپ بگٹی قبیلے میں نواب اکبر بگٹی کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں تو کیا نواب اکبر بگٹی کے بعد اب آپ نواب اور سردار بنیں گے ؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب سرداری نظام اور نوابی نظام کا خاتمہ ہوجا ناچاہئے
ضلع ڈیرہ بگٹی کے دورے پر گئی ہوئی کراچی کے صحافیوں کو سوئی کو مشہور و معروف مقام پر صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی اور ضلع ڈیرہ بگٹی کے ڈی سی او عبدالصمد لاسی اور ایف سی کے کرنل کمانڈنٹ فرقان نے بریفنگ کے دوران ڈیرہ بگٹی کی صورتحال سے آگاہ کیا اس دوران صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے نمائیندے اور بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائیزیشن کے سابق صدر رازق بگٹی بھی موجود تھے جنہوں نے بعد میں صحافیوں کو اپنی طالب علمی کے دوران کے واقعات سنائے اور بلوچستان کی سیاست کے اندرونی معاملات پر سے نقاب اٹھایا صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی اور ضلع ڈیرہ بگٹی کے ڈی سی او عبدالصمد لاسی اور ایف سی کے کرنل کمانڈنٹ فرقان نے بریفنگ کے دوران ڈیرہ بگٹی کی صورتحال صحافیوں کے سامنے تفصیل کے ساتھ رکھی اور اس وقت ملک کے اس اہم معاملے پر بیشتر صحافی حضرات کے شک و شبہات بھی دور کئے کراچی کے صحافیوں کے لئے چونکہ بلوچستان کے بیشتر معاملات تشویش کا باعث بن رہے ہیں اور بننے بھی تھے اس لئے صحافیوں کی بڑی تعداد ہر طرح کے سوالات دریافت کرنے کی کوشش کر رہی تھی خاص طور پر پی ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن کے نمائندے تو تفصیل کے ساتھ سوالات دریافت کررہے تھے سوال اور جواب کی اس میٹنگ کے بعد صحافیوں کو ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیکڑ کا دورہ کروایا گیا جہاں سے چند سال قبل نواب اکبر بگٹی نے مسوری بگٹیوں کو نکا لا تھا بات کو آگے بڑھانے سے قبل بگٹی قبیلے کے بارے میں کچھ مختصر معلومات دوبارہ فراہم کر دی جائیں تو بہتر ہوگا کیونکہ ہفت روزہ وجود میں بگٹی قبیلے ڈیرہ بگٹی کے بارے میں بہت ہی تفصیل کے ساتھ شائع کیا جاتا رہا ہے ہفت روزہ وجود کے گذشتہ شمارہ نمبر 6 میں بھی بگٹی قبیلے کے بارے میں تفصیل کے ساتھ شائع کیا جاچکا ہے
بگٹی قبیلے کا مرکزضلع ڈیرہ بگٹی میں ہے ۔ ڈیرہ بگٹی بلوچستان کیان دو اضلاع مین سے ایک ہے جہاں صرف ایک ہی قبیلے کی اکثریت ہے( دوسرا ضلع کوہلو ڈسٹکٹ ہے جہاں مری قبیلے کی اکثریت ہے ) قبیلے کا بنیادی تعلق رند بلوچوں سے ہے ۔ قبیلے کی چھہ بڑی شاخیں اور 44 پارے ہیں ان میں را ہیجہ سردار خیل ہے اور بگٹی قبیلے کا سردار اسی پاڑے میں سے ہوتا ہے ڈیرہ بگٹی میں راہیجہ ہی کا کنٹرول ہے اس کے علاوہ ، نوتھانی، مسوری ریاری (شمبانی) کلپر اور پھونگ شامل ہیں ان چھ پارں کے44 شاخیں زرکانی ، پیروزئی، نوسانی، ببرک زئی کرمان زئی قاسمانی، مندوانی،سہگانی، نوسانی،شلوانی،بگرانی، فیروزئی، رامزئی ہیں ضلع ڈیرہ بگٹی کا کل رقبہ 18528 ہے اس وقت ڈیرہ بگٹی کی آبادی بگٹیقبیلے کی تعداد1 لاکھ81 ہزار ہے ہے جن میں سے چار ساڑھے چار ہزار ہندو ہیں جب کے ضلع ڈیرہ بگٹی تین تحصیلوں میں منقسم ہے ڈیرہ بگٹی کا کنٹرول زیادہ تر نواب اکبر بگٹی ہی کے پاس رہتا رہا ہے مگر اپنی طبعیت کی وجہ سے ہمیشہ ہی نواب اکبر بگٹی دیگر بگٹیوں سے اختلافات کی وجہ سے کسی نہ کسی تنازعہ کا شکار رہے ہیں اسی لئے جہان ان کے حکومتوں اور دیگر قبائلی سرداروں کے ساتھ تنازعات رہے ہیں وہیں پر سب سے زیادہ کود بگٹی قبیلہ ان کے اس مزا ج کا شکار بنا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت ڈیرہ بگٹی کے عوام کی اکثریت پریشان اور مصائب کا شکار ہے ان ہی میں سے ایک مسوری قبیلہ ہے جس کے سردار اور ان کی پوری بستی کو نواب اکبر بگٹی کے حکم پر ضلع بدر کیا گیا تھا جو کہ بلوچستان چھوڑ کر پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں پناہ گزین ہوگئے تھے اس وقت حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں مسوری اور کلپر بگٹیوں کے وہ پناہ گزین جو ضلع بگٹی میں اپنے صدیوں پرانے گھروں اور آبادیوں کو چھوڑنے پر مجبور کردئے گئے تھے واپس ڈیرہ بگٹی میں آرہے ہیں ان ہی بگٹیوں میں سے ایک مسوری بگٹی کا علاقہ بیکڑ ہے جہاں کا دورہ بلوچستان کی حکومت کی جانب سے کروایا گیا تھا
بگٹی قبیلے کے چیف اور مسوری شاخ کے سربراہ علی محمد مسوری بگٹی سے جب یہ سوال کیا گیا کہ آخر آپ کے اور نواب اکبر بگٹی کے درمیان کس طرح کے اختلافات تھے؟ جن کی بنیاد پر نواب اکبر بگٹی نے اس طرح کے اقدامات کئے کہ آپ کو قید کردیا اور مسوری بگٹیوں کو جلاوطن کردیا ؟ توبگٹی قبیلے کے چیف اور مسوری شاخ کے سربراہ علی محمدمسوری بگٹی نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ علاقے کے عوام میں تعلیمی شعور بیدار ہو بگٹی بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں تاکہ بگٹی بھی ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں اس کے علاوہ ہماری کوشش تھہی کہ ڈیرہ بگٹی کے اس علاقے کی بنجر اور بے آباد زمین کو زیادہ سے زیاد ہ آباد کریں مگر یہاں پانی کی بہت کمی ہے اس مقصد کی خاطر ڈیری بگٹی کے علاقے بیکڑ میں پانی کے حصول اور برساتی پانی کو جمع کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ لیں کہ اس علاقے میں پانی کے ذخائیر موجود ہیں اور مختلف جگہوں پر کاشتکاری کے آثار دکھائی دیں گے( ، یہ بات انہوں نے اس لئے کہی کہ اس وقت بعض جگہوں پر کہیں کہیں کھیت تو بنے ہوئے تھے اور کہیں کہیں کچھ فصلیں نظر آرہی تھیں مگر جس طرح کاشتکاری کی جاتی ہے اس طر ح سے دکھائی نہیں دے رہا تھا) انہوں نے کہا کہ مگر یہ سب کچھ شائد نواب اکبر بگٹی کو ناپسند تھی اس لئے انہوں نے پہلے تو مسوری بگٹیوں پر مختلف نوعیت کے جرمانے عائد کئے پھر ان کا پیغام ہم تک پہنچا کہ تمام مسوری بگٹی ہتھیار اٹھا لیں اور جنگ کا آغاز کردیں ہم نے اس حکم کوماننے سے انکار کردیا کیونکہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ ہتھیار اٹھانے کا حکم غلط ہے تو نواب اکبر بگٹی نے ہمیں جرگے میں شرکت کی دعوت دی ہم مسوری بگٹیوں کے ہمراہ جرگے میں شرکت کرنے کے لئے ڈیرہ بگٹی گئے تو وہاں پر تمام مسوری بگٹیوں کو جن میں میرے بھائی غلام قادر بگٹی اور میرے بیٹے طارق بگٹی بھی شامل تھے روک لیا جس کے نتیجے میں ہم سب قید کرلئے گئے ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ پھر آپ لوگ کس طرح سے رہا ہوئے اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب نواب اکبر بگٹی کی باقائدہ جنگ ایف سی کے ساتھ شروع ہوئی اور انہوں نے اپنے قلعوں کو اور مراکز کو خالی کرنا شروع کیا تو اس دوران میں ایف سی کے جوان نواب اکبر بگٹی کے مراکز میں بھی داخل ہوئی جس کے نتیجے میں ہمیں رہائی نصیب ہوئی علی محمد مسوری کے بیٹے طارق مسوری جو ایک پڑھے لکھے فرد ہیں نے زیادہ تفصیل کے ساتھ ان حالات کو صحافیوں کے سامنے پیش کیا جن سے وہ اور ان کا قبیلہ کئی برسوں سے دوچار تھا طارق مسوری نے بتایا کہ چند لوگ جو اس سرزمین کو اپنی ذاتی جائداد سمجھتے ہیں ان ہی لوگون نے ہمیں صرف تشدد ، ڈکیتی اغوا برائے تاوان ، اور راکٹ باری سے نوازا ہے طارق مسوری نے کہا کہ ان لوگوں اک کہنا ہے کہ قتل کرنا کوئی جرم نہیں ہے جس کسی نے بھی اپنے بلوچ غریب عوام کے حقوق کے لئے جمہوری انداز میں آواز بلند کی وہ ان کی گولیوں کا نشانہ بن گیا ایک سوال کے جوا ب میں کہ آخر یہ لوگ اپنے ہی بگٹی بھائیوں کے خلاف اس طرح کا ظلم کیوں کررہے ہیں؟ ان کے مقاصد کیا ہیں ؟ طارق مسوری نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یہ گوار اہی نہیں کرسکتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں بھی کوئی مثبت تبدیلی رونما ہو اور بلوچ بھی اس قابل ہوں کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی بسر کرسکیں وہ چاہتے ہیں کہ آج کا بلوچ بھی 13 ویں صدی کی مانند ہمارا غلام بنا رہے ۔ جیسے ہم کہیں ویسے ہی کریں مگر ان کو پوچھنے کا کوئی اختیار نہ ہو وہ کوئی بھی اعتراض نہ کرسیکیں نمائندہ وجود نے دریافت کیا کہ مگر جیسا کہ آپ بتا رہے ہیں کہ ان لوگوں نے بہت مظالم کیئے ہیں کیا ان مظالم کا نشانہ آپ کے بگٹی قبیلے کے افراد بھی بنے ہیں ؟ طارق بگٹی نے جواب دیا ہاں ایسا ہی ہے غریب بگٹی بلوچ جو کھیتی باڑی کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے وہ بھی ان کے ظلم و زیادتی کا نشانہ بنے ہیں نہ تو وہ غریب بلوچ بگٹی اپنی پوری فصل کے مالک ہیں اور نہ ہی اپنے مال و مویشی کے مالک ہیں جو چاہیں جتنا چاہیں وہ یہ لوگ لے جاتے ہیں اور جو بچا کھچارہ جاتا ہے اسکے علاوہ آئے دن وہ لوگ بجلی کے کھمبوں کو اڑاتے ہیں یا پھر ڈیم توڑ دیتے ہیں، بلوچستان کے حالات اور اس علاقے کی غربت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے طارق بگٹی نے کہا اس وقت اگر آپ جائیزہ لیں تو صرف اور صرف آپ کو غریبی اور مایوسی ہی لوگوں میں ملے گی مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم اس صوبے کے حالات میں تبدیلی لا سکتے ہیں اس کا بنیادی حل تو یہ ہے کہ تعلیم کو عام کیا جائے صرف اورصرف تعلیم ہی کے ذریعے تبدیلی لائی جاسکتی ہے تعلیم سے امن آسکتا ہے ،اور تعلیم ہی سے لوگوں میں شعور بیدار ہوگا اور اسی سے ہی اپنے اچھے اور برے راستوں میں فرق کرسکیں گے ۔بگٹی قبیلے کے چیف اور مسوری شاخ کے سربراہ علی محمد مسوری بگٹیطارق مسوری بگٹی اور دیگر بگٹیوں کے ساتھ صحافیوں کی ٹیم ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیکڑکا دورہ کرنے کے لئے نکلی اس دورے کے دوران طارق بگٹی نے ہمیں بتایا کہ مسوری بگٹی بنیادی طور پر صلح کن اور امن پسند لوگ ہیں نمائندہ وجود نے دریافت کیا کہ مگر ہم نے تو سنا ہے کہ بگٹی بہت لڑاکا اور جنگجو ہوتے ہیں ؟ طارق بگٹی نے جواب دیا ان میں یہ تبدیلی اس لئے پیدا ہوئی کہ مسوری بگٹیوں کے سربراہ اور بگٹی قبیلے کے چیف اور علی محمد مسوری بگٹی کے خیالات یہ ہیں کہ اب ہمیں تعلیم حاصل کرنا چاہئے میلوں تک پھیلی ہوئی بے آباد زمین کو آباد کرکے اپنی آمدنی
بڑھانا چاہئیے اب وہ دور نہیں رہا ہے کہ لڑائی جھگڑا کیا جائے یا دوسو سال قبل کی زندگی بسر کی جائے اس لئے اب اگر آگے بڑھنا ہے تو صرف اعلیٰ تعلیم ہی کے ذریعے سے ترقی کی جاسکتی ہے اسلی لئے میرے والدبگٹی قبیلے کے چیف اور مسوری شاخ کے سربراہ علی محمد مسوری بگٹی نے بیکڑ کے علاقئے میں تعلیمی اداروں کو قائم کرنے پر کافی توجہ دی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اس چھوٹے سے علاقے سے اس وقت تین ایم بی بی ایس ڈاکٹر نکلے ہیں جب کئی اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں طارق مسوری نے کہا کہ ہمارے بچے بھی اب سمجھ گئے ہیں کے پاکستان کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ تعلیم کے میدان میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑاھ جائے زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کی جائے اس طرح اپنے ملک کی ترقی کے لئے اہم ترین کردار اد ا کیا جاسکتا ہے طارق بگٹی کے خیالات سننے کے بعد یہ سوال بھی ابھرا کہ کیا اب یہ ممکن ہوسکے گا کہ بلوچستان میں سرداری نظام کا خاتمہ ہوجائے یا غریب بلوچ عوام کو ان کے حقوق مل جائیں ؟ راقم نے یہ سوال طارق بگٹی سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ہاں اب یہ ممکن ہے اس لئے کہ اب بلوچوں کی اکثریت کو احساس ہو چکا ہے کہ حقوق کے نام پر اب تک سرداروں نے ان کو بیوقوف بنائے رکھا ہے ایک جانب تو یہ سردار حکومتوں کو بلیک میل کرتے رہے ہیں دوسری جانب عوام کے لئے باعث مسائل بنے رہتے ہیں اب بلوچ عوام کو سرداری کلچرل نہیں چاہئے وہ بھی پاکستان کے شہری ہیں ان کے بھی اسی طرح کے حقوق ہیں طراق بگٹی سے دریافت کیا گیا کہ آپ کہتے ہین کہ تعلیم بہت ضروری ہے تو آپ نے اب تک کیا کیا آپ تو سردار ہیں کیا آپ نے اپنے علاقے میں تعلیم فراہم کرنے کا انتطام کیا ہے ؟ طارق بگٹی نے جواب دیا کہ بیکڑکے علاقے میں مڈل اور ہائی اسکول قائم ہیں جہاں پر تعلیم فراہم کی جاتی ہے مسوری بگٹی قبیلے کے افراد کو تعلیم کا اس قدر احساس ہے کے واپس آنے کے بعد جو فوری طور پر کام کئے گئے ہیں وہ یہ کہ ان اسکولوں کو جن کو بلوچستان لبریشن آرمی کے افراد نے بند کروادئے تھے اب دوبارہ کھلوائے ہیں اور ان میں تعلیم فراہم کی جارہی ہے اس حوالے سے انہوں نے ایک اسکول کا بھی دورہ کروایا جس کو نواب اکبر بگٹی کے لوگوں نے قبضہ کرنے کے بعد بری طرح سے نقصان پہنچایا تھا
بلوچستان کے دو اضلاع ڈیرہ بگٹی اور کوہلو ڈسٹرکٹ جن کی آبادی کی اکثریت ایک ہی قبیلے بگٹی اور مریوں پر مشتمل ہے ویسے تو ہمیشہ ہی سے ماضی میں بلوچستان کے یہ دواضلاع لا اینڈ آرڈر کی خراب صورتحا ل کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوتے رہے ہیں اس وقت بھی شدید ترین بحران کا شکار ہیں جمہوری وطن پارٹی اور بگٹی قبیلے کے سربراہ اورسابق گورنر بلوچستان نواب اکبر بگٹی کی جانب سے چند ماہ قبل کہا گیا تھا کہ ہ ڈیرہ بگٹی میں حکومت کی جانب سے آپریشن کیا جارہا ہے اس وقت نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ بڑے ہتھیاروں کی زبان سے مذاکرات ہو رہے ہیں آپریشن کا دائرہ ڈیرہ بگٹی تک بڑھا دیا گیا ہے گولہ باری ہمار ے سروں پر ہو رہی ہے اور مختلف مقامات پر حکومت کی جانب سے بمباری بھی کی گئی جمہوری وطن پارٹی کے سیکرٹری جنرل شاہد بگٹی نے وجود سے بذریعہ موبائل فون گفتگو کرتے ہوئے کہا تھاکہ ڈیرہ بگٹی میں فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے ایک سوال کے جواب میں شاہد بگٹی نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ہماری جانب سے کسی طرح کی کوئی فائرنگ کی جائے کیونکہ کبھی کسی کمزور کی جانب سے طاقتور کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیاجاتا ہے جمہور ی وطن پارٹی کے سیکرٹری جنرل شاہد بگٹی کے اس بیان کے بعد واقعات کے تسلسل نے ثابت کیاجمہور ی وطن پارٹی کے سیکرٹری جنرل شاہد بگٹی کے اس بیان میں حقائق کم اور جذبات زیادہ تھے و مگر حالات اک جائیزہ لینے کے بعد یہ صورتحال سامنے آتی ہے کہ جہاں کچھ بیورنی عوامل ان دو اضلاع کی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کو خراب کرنے کا باعث بنے ہیں وہیں ان سے کہیں زیادہ عوامل اندرونی ہیں جیسا کہ سابق صوبائی وزیر میر محبت خان مری نے کہا ہے ہم سے بڑھ کرکوئی بلوچ نہیں ہے ہم بھی بلوچوں کے لئے دل میں درد رکھتے ہیں کوہلو میں صدر کی آمد کے موقع پر راکٹ داغنا بلوچی روایات اور مہمان نوازی کے خلاف ہے مسوری بگٹی قبیلے کے سربراہ اور چیف علی محمد بگٹی اور سردار غلام قادرمسوری بگٹی( ان کو سرکاری فورسیزنے نواب اکبر بگٹی کی نجی جیل سے رہا کروایا تھا) نے کہا انسانی حقوق کمیشن کی چئیر پرسن عاصمہ جہانگیر کو ہمارے قبیلے پر ہونے والے مظالم نظر نہیں آتے ہیں جب ہم نے آئی اے رحمان اور عاصمہ جہانگیر کو اپنے قبیلے پر ہونے والے مظالم کے بارے میں خط لکھا توانہوں نے یہ کہ کر جان چھڑا دی کہ یہ قبائلی مسئلہ ہے۔